ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جذام کے مریضوں سے امتیازی سلوک ،نئے قانون کومرکزکی ہری جھنڈی

جذام کے مریضوں سے امتیازی سلوک ،نئے قانون کومرکزکی ہری جھنڈی

Mon, 20 Aug 2018 23:27:40    S.O. News Service

نئی دہلی،20؍اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) مرکزی سرکار نے کہا ہے کہ جذام کے مریضوں سے امتیازی سلوک کرنے والے قانونی تجاویز کو ختم کرنے کے لئے مرکزی کابینہ نے نئے قانون کو ہری جھنڈی دی ہے۔ اسے جلدہی پارلیمنٹ میں رکھا جائے گا۔

مرکزکی جانب سے اے ایس جی پنکی آنندنے کہاکہ اس کاروائی کو مکمل کرنے میں چار ماہ کا وقت لگے گا۔ پچھلے پانچ جولائی کو سپریم کورٹ نے کچھ رہنما ہدایات جاری کئے تھے ۔کورٹ نے اپنی ہدایات میں کہا تھاکہ ریاستی سرکاروں ک یہ ترجیح ہونی چاہئے کہ وہ یہ دیکھیں کہ جذام سے متاثر شخص کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔

سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آل انڈیا ریڈیو اور دہلی دور درشن مرکز اور ریاستی سطح پر پرائم ٹائم میں پروگرام نشر کر کے بتائیں کہ جذام کے مریض کا علاج ممکن ہے ۔ لوگوں میں بیداری لانے کے لئے سرکار اسپیشل ونگ کی تشکیل کرے اور جس میں مقررہ افسر ہوں۔اپنی ہدایت میں کورٹ نے کہا ہے کہ اسپتال جذام مریض سے متاثر کسی بھی شخص کا علاج کرنے کے لئے منع نہیں کریں گے۔ پچھلے 24اپریل کو مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ وہ جذام کے مریضوں سے امتیازی سلوک کرنے والے قانونی تجاویز کو ختم کرے گا۔ عرضی لا سینٹر فار پالیسینے دائر کی ہے۔4دسمبر2017 کو عرضی گزار کی جانب سے سینئروکیل راجو رام چندرن نے کورٹ سے کہا تھا کہ ملک کے 119قانون ایسے ہیں جو جذام کے مریضوں کے ساتھ تعصب برتتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس دیپکمشرا نے کہا تھا کہ لا کمیشن نے بھی اس سلسلے میں اپنی سفارشات کی ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ ہم 21ویں صدی کے تیسرے عشرے میں جا رہے ہیں اور ابھی بھی جذام کے مریض مین اسٹریم سے باہر ہیں۔عرضی میں پرسنل لاء کا ذکر کیا گیاہے جس میں جذام کے مریضوں کے ساتھ تعصب کیا گیا ہے ۔عوامی شعبوں میں روزگار اور تقرریوں کے معاملے کے علاوہ جذام کے مریضوں کوعوامی مقامات پر گھومنے سے بھی روکا جاتا ہے ۔جدید میڈیکل کے زمانے میں بھی ہم جذام کے مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں ۔اب جبکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس مرضکا مکمل علاج ممکن ہے اس کے باوجود جذام کے مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے ۔عرضی گزار لا سینٹر فار پالیسی نے لاء کمیشن آف انڈیا کو 256واں رپورٹ بنانے کے دوران جذام کے مریضوں کے معاملے میں مددکی تھی۔


Share: